حج بدل میں تمتع
سوال
مشہور واعظ حضرت شاہ صوفی مولانامحمد روح الامین صاحب مفتی اعظم جمعية العلماء بنگال جو کہ ایک زبردست اور محقق عالم گزرے ہیں، ان کی تصنیف کردہ کتاب مسائل حج ص ۱۳۰ء میں انہوں نے یہ بات تحریر فرمائی ہے کہ منیب یا وصی اگر نائب کو پورا اختیار دیدے، تو اس کے لئے تمتع کرنا بلا شبہ جائز ہے، اور اس سے حج بھی ادا ہو جاتا ہے،مگر حضور عالی کا لکھا ہوا فتویٰ جو کہ معلم الحجاج میں مرقوم ہے اس کے بالکل خلاف معلوم ہوتا ہے، بہر کیف جو قابل ترجیح بات ہو عنایت فرمائیں؟
جواب
اور بھی بعض علماء نے اسی کو اختیار کیا ہے لیکن ہمیں کتب فقہ شامی، بحر، غنیتہ، سے وہی راج معلوم ہوا جو معلم الحجاج میں مذکور ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔