الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

حج بدل میں تمتع

سوال

ایک شخص حج کیلئے جارہا ہے اور اپنے ساتھ دو شخصوں کو اپنے خرچ سے لے جا رہا ہے تا کہ ان سے اپنے والد اور دادا کی طرف سے حج بدل کرائے بغیر انکی وصیت کے تو یہ دونوں شخص اگر حج بدل کریں بغیر کسی وصیت کے تو کیا ان کے لئے یلملم ہی سے احرام باندھنا ضروری ہے، اگر یہاں سے احرام باندھا جائے، تو بڑا لمبا زمانہ احرام کا ہو جائے گا، اس کی پابندیوں کا نبھانا مشکل ہے، اگر یہ دونوں جدہ سے مدینہ پاک سیدھے جائیں تو بھی جس مقصد کے لئے ان کو ساتھ لیا ہے، وہ فوت ہو جائیگا، اور سب رفقاء کا سیدھے مدینہ جانا مشکل ہے، تو کیا اس کی گنجائش…

جواب

الفرقان کی اس تحقیق کے بغیر بھی نفلی حج بدل میں (بلا وصیت) تمتع کی گنجائش ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو