الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

حج بدل کیلئے ایسے شخص کو بھیجنا جسنے اپنا حج فرض نہ کیا ہو

سوال

(۱) کیا کوئی صاحب مقدور حاجی جو قبل اپنا فریضہ حج نہیں ادا کر چکا ہے وہ اس طرح حج بدل میں کسی کی طرف سے جاسکتا ہے، کہ گھر سے وہ اپنے محض عمرہ کرنے کے لئے جانا چاہتا ہے، اور مکہ معظمہ ہی پہنچ کر اپنا عمرہ ادا کر کے ایام حج میں مقام حل تعمیم مسجد عائشہ سے یا مقام جعرانہ سے حج بدل کا احرام باندھتا ہے، تو از روئے شرع گنجائش جواز نکل سکتی ہے؟ اور وہ محض دو مجبوریوں کی بنا پر، اولاً جو حج بدل میں حج بدل والا رقم دینا چاہتا ہے، وہ مکہ معظمہ وغیرہ کی گرانی وغیرہ کو لے کر کافی دینا نہیں چاہتا؟ (۲)

جواب

(۱) اعلیٰ بات تو یہی ہے کہ حج بدل کے لئے ایسے شخص کو بھیجا جائے جو اپنا فرض حج ادا کر چکا ہو، لیکن اگر ایسے کو بھیج دیا جائے جس نے حج فرض نہ کیا ہو اور وہ آمر کی طرف سے حج بدل کرے تب بھی حج بدل ہو جائے گا۔ کذافی الدر المختار۔ (۲)

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو