متمتع کا مدینہ طیبہ جانا پھر عمرہ کرنا
سوال
(۱) ایک شخص آفاقی اشہر حج میں مکہ مکرمہ گیا اور عمرہ ادا کیا، عمرہ کی ادائیگی کے بعد مدینہ منورہ چلا گیا، مدینہ منورہ سے واپسی پر دوسرا عمرہ کیا، پھر حج کا احرام باندھا، کیا اس کا تمتع صحیح ہے یا نہیں؟ (۲) اس پر دم تمتع ہے یا نہیں؟ (۳) کیا اس پر کوئی دم جبر ہے یانہیں؟ (۴) تمتع پہلے عمرہ یا دوسرے عمرہ سے ادا ہوا؟ (۵) آفاقی کے لئے ایک عمرہ سے زائد کرنا اشہر حج میں صحیح ہے یا نہیں؟ (۶) مدینہ منورہ سے واپسی پر اگر فقط حج کا احرام باندھا تو اس کا تمتع ادا ہو گا یا نہیں؟ (۷) کیا اس پر دم جبر ہے یا نہیں؟ (۸)
جواب
اشہر حج میں اگر کوئی شخص عمرہ کر کے مدینہ طیبہ چلا گیا، پھر وہاں سے واپسی کے بعد صرف حج کا احرام باندھ کر آیا تو تمتع صحیح ہوگا، یہ امام صاحب کے نزدیک ہے، بخلاف صاحبین رحمہما اللہ کے، ان کے نزدیک پہلا تمتع باطل ہو گیا، ہاں اگر پھر مدینہ منورہ سے عمرہ کا احرام باندھ کر آئے، اور پھر حج کرے تو ان کے نزدیک تمتع ہو جائیگا، مگر امام صاحب کے نزدیک ایسا نہ کرے، معلم الحجاج، ص ۲۱۸ میں…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔