الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

حج بدل میں افراد ہو یا قران

سوال

(۱) حج بدل اگر میت کی طرف سے کیا جائے جبکہ اس نے حج کی قسم سے کسی قسم کا تعین نہ کیا ہو تو کون سی صورت مناسب ہے؟ (۲) اگر حج بدل میں افراد کرنا ہو تو رمضان المبارک سے قبل والے جہاز سے روانہ ہوکر پھر ایام حج کا احرام میقات سے باندھنا کیسا ہے؟ (۳) بمبئی سے جدہ اور جدہ سے مدینہ احرام کے بغیر جا کر پھر ایام حج میں حج بدل لیکر افراد کا احرام باندھ کر آنا کیسا ہے؟ (۴) حج بدل میں تمتع اور قران کے بارے کیا مسئلہ ہے؟ تمتع کی کوئی صورت جواز ہے؟

جواب

)۱(افراد کیا جائے۔ )۲(درست ہے۔ )۳(درست ہے۔ )۴(جب وصیت کے ماتحت بدل میں حج فرض ادا کرنا ہو تو تمتع نہ کیا جائے، قران کی گنجائش ہے، لیکن دم قران مامور پر لازم ہوگا۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو