استفتاء متعلق سوال بالا
سوال
جناب مولانا مفتی محمود حسن صاحب گنگوہی عم فیضہ سلام مسنون میرے استفتاء کا جواب ملا مگر تشفی نہیں ہوئی، میں نے عرض کیا تھا کہ مفرد اور قارن طواف کے بعد سعی کرے یا نہیں، آپ نے لکھا ہے کہ میری سمجھ میں نہیں آیا، حالانکہ موٹی بات ہے، عرض یہ ہے کہ جس طرح تمتع والا طواف کر کے صفا مروہ جا کر سعی کرتا ہے، ان دونوں کو بھی سعی کرنا چاہئے یا نہیں، یا کب سعی کرے، اب یہ عرض بھی ہے کہ مفرد اور قارن طواف قدوم میں عمرہ کی نیت کرے یا طواف قدوم کی اور مفرد وقارن سعی کب کرے گا؟
جواب
آپ دوبارہ اپنے خط کو دیکھئے اس میں لکھا ہے مفرد اور قارن طواف میں سعی کریگا، یا نہیں؟ موٹی سی بات ہیکہ طواف مسجد حرام میں ہوتا ہے، اور سعی بین الصفا والمروة ہوتی ہے، پھر طواف میں سعی کرنے کا مطلب کیسے سمجھ میں آئے، اب آپ نے مطلب کی وضاحت کی ہے، جواب یہ ہیکہ ان دونوں کو بھی طواف کرنے کے بعد صفا مروہ جا کر سعی کرنا چاہئے، قارن اول عمرہ کے لئے طواف کرتا ہے، پھر عمرہ ہی کے لئے سعی…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔