والدہ کے روپیہ سے حج
سوال
میں خیریت سے رہ کر اس سال فریضہ حج کے لئے اپنی والدہ محترمہ کا محرم بن کر ان کے ساتھ جانا چاہتا ہوں، میری عمر غالبا ۱۸ سال ہے، مجھ سے بڑے ایک بھائی ہیں، جن کی عمر تقریباً ۲۱ سال ہے، میرے اس مسئلہ کا حل فرما کر مجھ پر احسان فرما ئیں؟
جواب
اگر خرچ کا روپیہ آپ کی ملک کر دیا جائے، یا پہلے سے آپ کے پاس اتنا ہو کہ جس میں آپ حج کرسکیں تو پھر والدہ محترمہ کے ساتھ جانے اور حج کرنے سے آپ کا حج فرض ادا ہو جائے گا، اگر والدہ محترمہ اپنے روپیہ سے آپ کو ساتھ لے جائیں، اور حج کر لیں تب بھی حج ادا ہو جائیگا، اس فکر میں نہ رہیں کہ بڑے بھائی نے حج نہیں کیا، تو میں کیسے حج کرلوں، آپ کا حج ہر حال میں ادا ہو جائے گا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔