الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

فرضیت حج کیلئے مدینہ طیبہ کا خرچ ہونا ضروری نہیں

سوال

زید کے پاس صرف مکہ معظمہ تک جانے آنے کا خرچ ہے، تو ایسی صورت میں زید کے ذمہ حج کے لئے جانا فرض ہوگا، یا مدینہ طیبہ کے سفر خرچ ہونے تک حج کو ملتوی رکھے، پھر جب کبھی حرمین تک کا خرچ میسر آجائے، اس وقت جائے؟

جواب

جس کے پاس مکہ معظمہ تک جانے اور آنے اور حج کرنے کا خرچ موجود ہواس کے ذمہ حج لازم ہو گا، بحر، ج ۲ ص ۳۳۴ / پھر مدینہ طیبہ کیلئے کوشش کرے، اور اللہ سے دعا کرے اگر گنجائش ہو جائے تو وہاں حاضری کی سعادت بھی حاصل کرے، حج کو اس انتظار میں مؤخر نہ کرے کہ جب مدینہ طیبہ کا خرچ بھی پاس ہوگا، تب حج کرے گا۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو