کیا مال ضائع ہو جانے سے حج ساقط ہو جائے گا
سوال
ایک شخص پر حج فرض ہو چکا تھا، مگر کسی طرح اس کا مال ضائع ہو گیا، جس سے حج کو جانے کی طاقت جاتی رہی، تو اب حج اس کے ذمہ سے ساقط ہو جائے گا یا نہیں؟
جواب
اگر اسکے پاس مال بقدر حج ایسے وقت تھا، کہ لوگ حج کو نہیں جارہے تھے، بلکہ ابھی وقت حج میں دیر تھی، اور وقت حج آنے سے پہلے ہی وہ مال ضائع ہو گیا، تو اسکے ذمہ حج فرض نہیں، اگر زمانہ حج میں مال تھا، اور اسنے ارادہ کر لیا تھامگر بغیر اسکے اختیار کے مال ضائع ہوگیا، تب بھی اسکے ذمہ حج نہیں اگر اس نے خود اپنے اختیار سے ایسی جگہ خرچ کر دیا، جہاں شریعت کی طرف سے خرچ کرنے کا امر نہیں…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔