الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

حج اور عمرہ میں نیت زبان سے کرنا

سوال

مدرسہ جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ سے حج اور عمرہ نام کی ایک کتاب شائع ہو چکی ہے، جس میں حج اور عمرہ کے ضروری احکامات کو بیان کیا گیا ہے، ہم نے اسکا بغور مطالعہ کر کے، ایک مسئلہ کے بارے میں پیچیدگی پائی ہے، جس کی تفصیل درج ذیل ہے، کتاب مذکورہ بالا کے صفحہ (۴۵ - ۴۶ - ۴۷ - ۴۸ - میں حج اور عمرہ کا تفصیلی بیان شروع کیا گیا ہے، سب سے پہلے نیت کا بیان تحریر کیا گیا ہے، اور لکھا ہے کہ عمرہ اور حج کے موقعہ پر دل سے نیت کرنے کے علاوہ الفاظ زبان سے ادا کئے جائیں گے عمرہ اور حج کے علاوہ دوسری عبادات مثلاً نماز، روزہ، طواف وغیرہ…

جواب

یہ بات صحیح ہے کہ نماز کی نیت کیلئے زبان سے الفاظ کا کہنا حضرت نبی اکرم صلى الله عليه وسلم سے منقول نہیں، در حقیقت نیت نام ہے ارادہ قلبی کا، بہت سے لوگ ایسے ہیں جن پر خیالات اور وساوس کا ہجوم رہتا ہے، جس کی وجہ سے وہ اپنے ارادہ قلبی کومستحکم مستحضر نہیں کر سکتے، ان کے لئے الفاظ کا ادا کر دینا کافی قرار دیا گیا ہے، اگر کوئی شخص زبان سے الفاظ نہ کہے دل میں ارادہ کرے، تو بھی بلا…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو