الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

روپیہ حج کے لئے تھا اس سے مکان بنالیا کیا اب بھی حج فرض ہے؟

سوال

کہ ایک شخص کے پاس اتنا روپیہ تھا کہ وہ حج بیت اللہ کر سکے، مگر پھر بعض دقتوں کی وجہ سے اپنی سکونت دوسری جگہ اختیار کر لی، اب وہاں چونکہ مکان بنانا پڑا، اس لئے وہ روپیہ خرچ ہو گیا، اب سوال یہ ہے کہ اس شخص پر اس وقت جب کہ اس کے پاس کافی روپیہ موجود تھا، اس وقت اس کے ذمہ حج فرض ہو گیا تھا یا نہیں، بینوا وتوجروا۔

جواب

اگر مکان کی ضرورت حج سے پہلے ہی پیش آ گئی اور اس مجبوری کی وجہ سے مکان بنالیا تو اس کے ذمہ حج فرض نہیں ہوا تھا، اگر وقت حج یعنی جس وقت کہ لوگ اس کے پاس سے حج کے لئے جارہے تھے، اس وقت تو مکان کی ضرورت نہ تھی، بلکہ بعد میں ضرورت پیش آئی، اور اس میں روپیہ خرچ کر لیا، تو اس کے ذمہ حج فرض ہو چکا تھا، ”لو لم یکن له مسكن ولا خادم وعنده مال يبلغ ثمن ذلك ولا يبقى بعده قدر مایحج به فانه…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو