الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

یوم القر کی تشریح

سوال

” ان اعظم الايام عند الله يوم النحر ثم يوم القر “مشكوة شريف ص ۲۳۲ جب کہ قربانی کے تین دن ہیں، تو لفظ ”یوم القر“ کا کیا مطلب ہے؟ کیا حاجیوں کے لئے قربانی کے تین دن نہیں ہیں، اگر ہیں لفظ” یوم القر“کیوں فرمایا، اس حدیث سے تو صاف یہ بیان ظاہر ہوتا ہے کہ قربانی کرنے کا صرف ایک ہی دن ہے دوسرا دن آرام کرنے کا؟

جواب

نحمده ونصلى على رسوله الكريم ان اعظم الايام عند الله يوم النحر ثم يوم القر“ الحديث مشکوة شریف ص ۲۳۲/ اس میں تو حصر نہیں ہے کہ قربانی صرف ایک روز ہی ہو سکتی ہے اس کے بعد درست نہیں ”یوم القر “ کو یوم القر کہنے کی وجہ یہ ہے کہ مجمع البحار ج ۲ ص ۱۳۱ میں علامہ پٹنی نے لکھا ہے” افضل الايام يوم النحر ثم يوم القر وهو حادى عشر ذي الحجة لانهم يقرون فيه بمنى اى يسكنون ویقیمون اھ ایسا ہی…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو