روپیہ ضائع ہونے سے فرضیت حج ساقط نہیں ہوتی
سوال
عرصہ ۲۶ سال کا ہوا جب زید پر حج فرض ہوا، اس رقم سے زید نے کھانڈ خریدلی، چونکہ حج کے جانے میں زیادہ دن تھے، قسمت کی بات کہ اس دوران میں کھانڈ سرکاری گرفت میں آگئی، اور جو روپیہ تھا، وہ سب ختم ہو گیا، اور زید حج سے محروم رہ گیا، اب قدرت نے پھر موقع عنایت فرمایا ہے، لڑکے اپنے پیسہ سے حج بیت اللہ کو بھیج رہے ہیں، اب آپ سے یہ معلوم کرنا ہے کہ جو زید کی حج کی فرضیت ماضی میں ہو چکی تھی وہ پیسہ ختم ہونے کے بعد فرضیت ختم ہوگئی، یا باقی رہے گی؟ اور اگر باقی رہی، تو کیا لڑکوں کے حج کرانے سے وہ فرضیت ختم ہو جائے گی یا نہیں؟
جواب
روپیہ محفوظ نہیں رکھا تجارت میں لگا دیا، جس کی وجہ سے وہ ضائع ہو گیا، اس لئے فریضہ حج ختم نہیں ہوا، بلکہ ذمہ میں باقی ہے،لڑکے اگر پیسہ دے رہے ہیں، اور وہ اس سے حج کرے گا، تو فریضہ حج ادا ہو جائے گا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔