الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

لڑکی کی شادی مقدم ہے یا حج

سوال

ایک شخص پر حج فرض ہو چکا، مگر اس کی لڑکی شادی کے قابل ہو چکی ہے، تو اس صورت میں پہلے حج کرے یالڑ کی کی شادی؟ جبکہ شادی کرنے میں حج کو ملتوی کرنا پڑے گا؟

جواب

اس کی وجہ سے حج کو مؤخر یا ملتوی نہ کرے آج کل کی رسم و رواج نے شادی کے لئے جو پابندیاں لازم کر دی ہیں، وہ اکثر ایسی ہیں، جو شرعاً لازم نہیں، بلکہ شرعاً نا جائز ہیں،شادی کا مسنون طریقہ تحفتہ الزوجین وغیرہ اردو رسائل میں دیکھنا چاہئے،اگر طریقہ مسنونہ پر شادی کی جائے تو جج کو ملتوی یا مؤخر کرنے کی ضرورت پیش نہیں آتی ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو