الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

ضمانت میں وعدہ خلافی

سوال

ولی محمد نے ایک وقت میں حاجت مندی اور پریشانی کی حالت میں محمد اسماعیل سے کہا کہ میرے یہاں بیاہ شادی پڑی ہوئی ہے، نقد روپیہ میرے پاس نہیں، جس بزاز سے آپ کپڑا خریدتے ہیں اس کی آپ سے جان پہچان اور لین دین ہے، لہذا شادی کے موقعہ پر اُدھار کپڑا مجھے دلوادیجئے؟ محمد اسماعیل نے اس کی مجبوری کو محسوس کر کے حسب ضرورت مبلغ دوسوروپیہ کا کپڑا اپنی ضمانت پر اس کو دلوادیا، بعد شادی وعدہ کے مطابق چند بار تقاضا بھی کیا گیا، مگر وہ بلا مجبوری استطاعت ہوتے ہوئے بھی آج کل کرتا رہا، یہاں تک کہ کئی سال گزر گئے، اب اس کی نیت ہی بدل…

جواب

یہ وعدہ خلافی اور دوسرے کا روپیہ استطاعت کے باوجود نہ دینا ظلم ہے، گناہ ہے، یہ حق العبد ہے، جس پر آخرت میں سخت پکڑ ہوگی، اور دنیا میں بھی وبال آئے گا، خدا سے ڈرنا چاہئے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو