الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

وعدہ خلافی

سوال

ایک شخص مجمع کثیر میں حتمی وعدہ کرتا ہے، کہ جب بھی میں حج بیت اللہ شریف کو جاؤنگا، اپنے استاذ محترم کو لے جاؤں گا لیکن اب اس کی نیت بدل گئی، اب جاتے وقت اکیلا جا رہا ہے؟ استاذ کو اپنے ہمراہ نہیں لے جا رہا ہے، انکا خرچ ہی برداشت کرنے کو تیار ہے، تو اب اس شخص کو کیا کہا جائے؟ دروغ گو یا وعدہ خلاف؟ شرعی رو سے اس کا تاوان دنیا میں کیا ہوگا؟

جواب

اگر وعدہ کرتے وقت یہ نیت ہو کہ اس کو پورا نہیں کرونگا، بلکہ محض دھوکہ دینے کے لئے وعدہ کیا ہے، تو یہ منافق کی علامت ہے سخت معصیت ہے، اللہ تعالیٰ محفوظ رکھے، اگر وعدہ کرتے وقت پورا کرنے کا ارادہ تھا لیکن بعد میں کسی عذر کی وجہ سے پورا نہیں کر سکا تو یہ گناہ ہی نہیں، اگر بلا عذر پورا نہیں کیا تو یہ گناہ ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو