وعدہ خلافی اور قسم کا کفارہ
سوال
دو شخص ملکر آپس میں کاروبار کرتے تھے، دونوں نے زبانی طور سے اس بات کا اقرار کیا تھا کہ ہم دونوں مل کر ہمیشہ کاروبار کریں گے، مگر کچھ دنوں بعد دونوں میں پھوٹ پیدا ہو گئی، ان دونوں میں سے کسی ایک نے اپنے اقرار کو توڑ دیا تو بتائیں کہ اس کا کفارہ کیا ہوگا؟
جواب
اگر قسم نہیں کھائی تھی صرف وعدہ کیا تھا اور بلا وجہ وعدہ توڑ دیا تو اس سے گناہ ہوا، اگر کوئی وجہ پیش آئی تو وعدہ توڑنے سے گناہ نہیں ہوا، کذا فی شرح الاشباہ والنظائر، اگر قسم کھائی تھی پھر اسکے خلاف کیا تو اسکے ذمہ کفارہ لازم ہے، دس غریبوں کو دو وقت شکم سیر کھانا کھلائے یا ان کو کپڑا پہنائے، اگر اتنی وسعت نہ ہو تو تین روز مسلسل رکھے، کذا فی رد المحتار
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔