زمین دوسرے کو دینے کا وعدہ کر کے انکار کرنا
سوال
ایک سرکاری زمین پر دو آدمی جھونپڑیوں میں رہتے تھے سرکار نے یہ جگہ لے کر دوسری جگہ دی جس پر پیسہ بھی لیا ان دونوں آدمیوں میں سے ایک نے لینے سے انکار کر دیا کہ مجھ سے پیسہ نہیں دیا جائے گا تو دوسرے نے کہا میں لے لیتا ہوں تجھے کوئی اعتراض نہ ہو تو اور میں ہی پیسہ ادا کر دوں گا دوسرے نے کہا مجھے کوئی اعتراض نہیں تو لے لے۔ اس پر دوسرے شخص نے پھر کہا کہ چونکہ زمین تیری بھی ہوگی۔
جواب
جب کہ اس نے پہلے اقرار کر لیا تھا کہ یہ ایمانداری ہے میں نہیں لوں گا اور روپیہ کا بھی ذمہ دار ہونے سے انکار کر کے دوسرے آدمی سے کہہ دیا تھا کہ تو ہی خرید لے اور یہ معاملہ طے ہونے کے بعد اس کے نام سے وہ پلاٹ خریدا گیا تو وہ یقیناً اسی شخص کا ہے جس نے قیمت کی ذمہ داری لی ہے پھر اس نے یہ احسان کیا کہ جس کے نام سے خریدا ہے اسے رہنے دیا اب اس کا لالچ میں آکر اپنے اقرار سے انکار…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔