الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

جھوٹے مقدمہ سے بچنے کے لئے جھوٹا مقدمہ کرنا

سوال

جب دفع ظلم و حفاظت حق و غیرہ کے لئے دعوئی یا شہادت قصاص بموجب فتوی حضرت تھانوی کے جھوٹی جائز ہے، تو اپنی جان جھوٹے مقدمہ سے چھڑا لینا ظالم پر جھوٹا مقدمہ کر کے کیوں نہیں جائز ہے؟

جواب

جان چھڑانا جائز ہے، مگر قصداً ایسا کرنے میں ایک تو صراحۃً جھوٹ ہوگا جو کہ فی نفسہ معصیت ہے، دوسرے اس میں اصالۃً دوسرے شخص کو پھنسانا اور لزوماً اپنی جان چھڑانا ہوگا، اور یہ لزوم بھی یقینی نہیں بلکہ احتمالی ہے، نیز اس میں تعدی اغلب ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو