جھوٹا حلف
سوال
ایک شخص عدالت میں ثبوت کی حثیت سے گواہی دیتا ہے اور خدا کو حاضر و ناظر جان کر جھوٹی گواہی دیتا ہے، دوسرا شخص رمضان کے روزے بھی رکھتا ہے، اور جھوٹی گواہی دیتا ہے، اور مدعی بھری عدالت میں قرآن شریف اٹھا کر جھوٹا حلف کھاتا ہے، اس کے بر عکس مدعا علیہ قرآن پاک اُٹھانے پر اپنی جائیداد کا حصہ چھوڑ دیتا ہے، ان جھوٹ بولنے والے گواہوں اور مدعی کیلئے شرعی حکم کیا ہے؟ کیا جھوٹ بول کر کسی کی جائیداد سے فائدہ اٹھانا جائز ہے؟ اس کے برعکس قسم کھانے پر جائیداد چھوڑ دینے والے کو کیا ثواب ملے گا۔؟
جواب
جھوٹا حلف اُٹھانا کبیرہ گناہ ہے، حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو شرک کے قریب بیان فرمایا ہے، اور اس ذریعہ سے جو ناحق مال جائیداد وغیرہ حاصل ہو اس کا کھانا بھی حرام ہے، جو شخص حق پر ہونے کے باوجود اللہ پاک کے نام کی عظمت کا لحاظ رکھتے ہوئے حلف سے باز رہے اور اپنا حق چھوڑ دے اس نے بہت بڑا ایثار کیا اس کے لئے جنت میں مخصوص نعمت کا وعدہ ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔