الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

تحفظ جائداد کے لئے جھوٹ بولنا

سوال

زید ایک صاحب جائداد شخص تھا، اس نے اپنی زوجہ ہندہ کے افعال قبیحہ اور حرکات ناشائستہ سے تنگ آکر اس لئے کہ ہندہ اس کی جائداد سے متمتع نہ ہو اپنی جائداد اپنے عزیزوں کے نام ذریعہ بیعنامہ جات منتقل کر دی، بعد ازاں چھ سال کے بعد ہندہ کو طلاق دیگر اپنی زوجیت سے خارج کر دیا، اور ہندہ نے ابراء مہر کر دیا بر وقت طلاق ایک دختر شیر خوار صلبی زید موجود تھی جو اپنی والدہ ہندہ کے ساتھ رہی اور زید کا انتقال ہو گیا، ہندہ نے دوسرا شوہر کر لیا، شوہر موجودہ نے منجانب سعیدہ نابالغہ (دختر حقیقی زید)

جواب

صراحة جھوٹ بولنا شرعاً حرام ہے، لہذا زید کے اعزہ کو صراحۃً جھوٹ بولنے کی گنجائش نہیں، البتہ زید کے اعزہ کی نیت اگر جائیداد خود رکھنے کی نہیں بلکہ خالص نیت لوجہ اللہ ہے کہ سعیدہ کی جائیداد محفوظ رہے اور بڑی ہو جائیگی تو اس کو سب جائیداد دیں گے، تو ان کے لئے کوئی مشروع حیلہ کرنا سعیدہ کی جائیداد بچانے کیلئے مناسب ہے، جب کہ اس کی جائیداد خطرہ میں ہو اور فرضیت کا ثبوت کافی ہو اگر…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو