جھوٹے کو جھوٹا کہنا
سوال
کسی شخص نے ایسی جگہ جیسے عید گاہ کے نام سے بغیر رجسٹری کے وقف کیا ہے اور چند مرتبہ نماز عید اس میں ادا کی گئی، کچھ دنوں پہلے اسی عید گاہ کو فروخت کرنا چاہا محلہ والوں نے فروخت کرنے سے روکا، اس نے نہیں مانا تو محلہ والوں نے عدالت میں اطلاع دی کہ یہ جگہ عید گاہ ہے، تو عدالت روک لگائے، اس کے بعد رجسٹری کے بغیر وقف کرنے والے زمین کے مالک نے عدالت میں جا کر یہ کہا کہ یہ عید گاہ نہیں ہے، اس میں نماز عید نہیں پڑھی گئی، اسی گواہ پر عدالت نے زمین فروخت کرنے کی اجازت دیدی ہے، اب اس پر غیر مسلم قابض ہے، اب اس جیسے جھوٹے کو…
جواب
جھوٹے کو جھوٹا ہی کہا جاتا ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔