الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

جھوٹا دعوی

سوال

مسمی ارشاد حسین کے متصل مسجد قلعہ فتح پور ہے اور مکان سے ملی ہوئی اراضی ملکیت مسجد ہے، مسجد کے حجرہ کے اوپر دوکان بنائی جارہی تھی، مگر ارشاد نے جھوٹا دعوی اس زمین پر اپنی ملکیت کا کر دیا ہے، اور تعمیر بھی رکوادی ہے، ایسے شخص کے لئے شرعاً کیا حکم ہے؟

جواب

جھوٹا دعوئی تو بہر حال جھوٹا ہے، اگر ناحق جھوٹ بول کر کوئی شخص اپنے حق میں فیصلہ کرالے گا تو وہ جہنم کی آگ کا ٹکڑا ہو گا، ہو سکتا ہے کہ دنیا میں بھی بھڑک اُٹھے اور آخرت میں تو اس کا بھڑکنا یقینی ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو