جھوٹ بولنا اور جھوٹی گواہی دینا
سوال
زید اپنے اثبات حق کے لئے شہادت زور کا محتاج ہے، عمر کہتا ہے کہ اگر شریعت اجازت دیتی ہو تو میں اس کام کو کرنے کے لئے تیار ہوں، لہذا حضور والا سے معروض ہے کہ اگر اس امر میں گنجائش ہو تو مع حوالہ کتب و نقل عبارت تحریر فرمائیں، نیز کتنی جگہ شریعت جھوٹ بولنے کی اجازت دیتی ہے؟
جواب
اگر احیاء حق شہادت زور پر منحصر ہو تو تعریضاً کذب مشروع ہے اور عین کذب پھر بھی حرام ہے، جن مواقع میں شریعت نے کذب کی اجازت دی ہے وہ یہ ہیں ” والكذب حرام الافي الحرب للخدعة، وفي الصلح بين اثنين، وفى ارضاء الاهل، وفي دفع الظالم عن الظلم، والمراد التعريض لان عين الكذب حرام قال في المجتبى وهو الحق قال تعالى قتل الخراصون، سكب الانهر ج ۲ ص ۵۵۲ کسی کا حق ضبط کر کے نہ دینا بھی ظلم ہے…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔