مصلحۃً کذب کی نسبت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کرنا
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان کرام شرع متین اس مسئلہ میں کہ مسمى عبد الواحد نے یہ کہا اپنے داماد سے کہ میں کانپور ضلع میں لڑکی کی شادی نہیں کرونگا، پھر کچھ روز کے بعد مذکورہ ضلع میں مذکورہ لڑکی کی شادی کر دی، لوگوں نے اس پر اعتراض کیا کہ آپ نے مسجد میں بیٹھ کر قسم کھائی تھی کہ مذکورہ ضلع میں لڑکی کی شادی نہیں کرونگا، پھر آپ نے کیوں کر دیا، تو اس پر مسمی عبدالواحد نے یہ جواب دیا کہ مصلحت کے وقت مسجد کو سر پر رکھ لینا اور جھوٹ بولنا جائز ہے، حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی مصلحت کے وقت جھوٹ بولتے تھے (نعوذ…
جواب
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صادق امین تھے، یعنی سچے اور امانت دار تھے، نزول وحی سے پہلے بھی کبھی آپ نے کوئی غلط بات زبان مبارک سے نہیں نکالی، اس کا اعتراف آپ کے سخت مخالف اور دشمن بھی کرتے تھے، اور نزول وحی کے بعد بھی کبھی آپ نے غلط بیانی سے کام نہیں لیا، کسی مصلحت کی خاطر جھوٹ نہیں بولا کبھی وعدہ خلافی نہیں کی، ان چیزوں سے آپ کی ذات اقدس بالکل پاک تھی، شخص مذکور کو اپنے اس…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔