دفع ظلم کے لئے جھوٹ بولنا
سوال
جناب عالی عرض یہ ہے کہ یہ تحریر ملاحظہ فرما کر آپ بھی تحریر فرمائیں، اگرچہ جواب میں تاخیر ہو تو حرج نہیں، پوری تحقیق سے باسند و حوالہ تحریر فرمائیں، اور دعاء خاتمہ بالایمان کی فرمائیں، بیان القرآن پارہ ربما کے آخری صفحہ پر آیت ” وَإِنْ عَاقِبَتُمُ الخ ” اور پارہ اقترب کے تیسرے رکوع سے کچھ آگے آیت “و من عاقب بمثل ما عوقبتم به الخ” اور پارہ الیہ یرد کے ربع اول سے کچھ آگے آیت ” ولمن تنصر الخ “ کی تفسیر میں فرمایا انتقام لینا جائز ہے، بشرطیکہ وہ کام فی نفسہ معصیت نہ ہو، کیا جھوٹ فی نفسہ معصیت ہے یا نہیں؟
جواب
جھوٹ بولنا فی نفسہ معصیت ہے کسی حال میں جائز نہیں البتہ چند مواقع میں فقہاء نے تعریض کی اجازت دی ہے، انہیں میں سے دفع ظلم بھی ہے، اگر دفع ظلم بغیر کذب کے دشوار ہو تو تعریضا کذب مباح ہے، صراحہ حرام ہے، اور بغیر ایسی ضرورت کے تعریض بھی جائز نہیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔