عبدالسبحان نام رکھنا
سوال
اگر زید نے اپنے لڑکے کا نام عبدالسبحان رکھ دیا تو یہ نام رکھنا صحیح ہے یا غلط ہے؟ اور زید اپنے خیال میں یہ بات ملحوظ نظر رکھتا ہے کہ سبحان مصدر ہے، اور مصدر اسم فاعل واسم مفعول کے معنی میں بھی آتا ہے، تو اگر زید نے سبحان مصدر کو اسم مفعول کے معنی میں لے کر عبدالسبحان کے معنی ”پا کی کئے ہوئے کا بندہ“ کئے اب یہاں عبدالسبحان میں جو سبحان مصدر اسم مفعول کے معنی میں ہے اس سے مراد اللہ تعالٰی شانہ لیا جائے تو یہ مراد لینا درست ہو گا یا نہیں؟ اور اس وقت عبدالسبحان نام رکھنا درست ہوگا یا غلط؟
جواب
مصدر کا اسم فاعل واسم مفعول کے معنی میں آنا سماعی ہے یا قیاسی؟ اگر قیاسی ہے تو پھر مصدر کو بمعنی اسم فاعل واسم مفعول کے لے سکتے ہیں، مگر اس کے لئے دلیل کی ضرورت ہے، اگر سماعی ہے تو مورد سماع پر منحصر رہے گا، تو زید ثبوت پیش کرے کہ سبحان مصدر کلام عرب میں کسی جگہ بمعنی اسم مفعول آیا ہے، نیز اللہ تبارک و تعالیٰ کے اسماء توفیقی ہیں، زید بتلائے کہ سبحان کا اطلاق قرآن کریم، حدیث…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔