غلام اولیاء نام رکھنا
سوال
بندہ کا نام غلام اولیاء ہے یہ نام عہد طفلی میں والد صاحب نے رکھا تھا، جو آج بھی چل رہا ہے، تمام اسناد وغیرہ میں یہی نام درج ہے اس طرف خدا کا شکر ہے، کچھ اللہ والوں کے ساتھ رہا، ان بزرگوں نے میرے نام پر از روئے ہمدردی کچھ اعتراض کیا ان لوگوں کے مطابق میرا نام پسند نہیں ہے، میرے نام کی شرعی حیثیت سے مطلع فرمائیں، اور اگر آپ کی رائے میں نام بدلنا ضروری رہے تو دو نام بھی تجویز فرمائیں؟
جواب
غلام کا لفظ مشترک ہے اسکے معنی عبد (بندہ) کے بھی ہیں اور اسکے معنی خادم بھی ہیں، اور اسکے معنی نو عمر بھی ہیں، پہلے معنی کے اعتبار سے اولیاء نام نہیں رکھنا چاہئے، کیونکہ اسکا مطلب یہ ہوا کہ ”اولیاء کا بندہ“ کہہ دیا گیا حالانکہ سب کے سب صرف اللہ کے بندے ہیں، جن بزرگوں نے اعتراض کیا ہے اس معنی کے اعتبار سے کیا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔