علماء کی مستورات کا فیشن حجت شرعیہ ہے؟
سوال
کتاب دوزخ کا کھٹکا میں لکھا ہے کہ پاؤڈر، سرخی، مانگ جوڑا باندھنا، جدید طرز کا کالا برقعہ ان کا استعمال عورتوں کو ممنوع ہے، مگر آج کی جدید عورت اعتراض کرتی ہے کہ یہ سب فیشن علماء کے یہاں بھی موجود ہیں، پس علماء کی عورتوں کا یہ فعل حجت ہے، ایسے ہی مردوں کو کوٹ پتلون ٹخنوں کے نیچے کپڑا لٹکانا ان کا استعمال ”من تشبه بقوم فهو منهم“ میں داخل ہے یا نہیں؟
جواب
مردوں کو ٹخنوں سے نیچے پاجامہ یا لنگی مکروہ تحریمی ہے، حدیث شریف میں اس پر وعید آئی ہے، لباس کے متعلق ضابطہ یہ ہے کہ جو لباس سنت سے ثابت ہے وہ یقیناً اعلیٰ اور افضل ہے، اور جو لباس ممنوع ہے، مثلاً مرد کے لئے ریشمی لباس یا عورتوں کے لئے ایسا لباس جس سے جسم نظر آئے اس کی اجازت نہیں، اس کے علاوہ جو لباس کفار یا فساق کا شعار ہو اس کا اختیار کرنا درست نہیں، علماء کی مستورات اگر نا…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔