الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

بسکٹ میں تاڑی کا استعمال

سوال

دوکاندار ایسا بسکٹ فروخت کرتا ہے، جس میں تاڑی کی گاد (تلچھٹ) رکھ کر تنور کی گرمی سے تیار کیا جاتا ہے، جس کو کہ لوگ عام طور پر کھاتے ہیں، اور کسی قسم کی کراہت نہیں سمجھتے، ایک شخص اس سے کہتا ہے کہ جس شئی میں تاڑی ملی ہو اس کا استعمال ناجائز ہے، اس پر وہ دوکاندار یہ دلیل پیش کرتا ہے نجس چیز جیسے سور یا پاخانہ جبکہ نمک کے کان میں گر کر نمک ہو جاوے تو وہ پاک ہو جاتا ہے، اسی طرح اگر مٹی ہو جاوے، یا جل کر راکھ ہو جائے، تو وہ پاک ہے، خلاصہ یہ کہ تبدیل حقیقت سے ناپاک، پاک ہو جایا کرتی ہے، مثلاً شراب جبکہ سرکہ ہو جاوے پاک…

جواب

تاڑی مسکر ہوتی ہے اور امام محمد کے نزدیک مسکر حرام ہے خواہ قلیل ہو یا کثیر، یہی قول مفتی بہ ہے، پس زید کا اس کو بسکٹ میں ڈالنا حرام ہے اور فروخت کرنا بقول مفتی بہ ناجائز و مکروہ تحریمی ہے، اور جاننے والوں کو خریدنا اور استعمال کرنا بھی ناجائز مکروہ تحریمی ہے، جب ایک شئی حرام و نجس ہو تو اس میں قلیل وکثیر کا فرق کرنا ساقط ہو جاتا ہے، مثلاً ایک قطرہ شراب یا پیشاب کا کنویں میں گر…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو