پوست کا ڈوڈا پینا
سوال
پوستہ کی ڈھونڈی جس میں افیون نکلتی ہے، اس کو تھوڑی مقدار میں بھگو کر کوٹ چھان کر والد صاحب عرصہ سے پیتے ہیں، جس سے نشہ تو بالکل نہیں ہوتا، البتہ بدن میں وہ ایک توانائی محسوس کرتے ہیں، ایک اہل حدیث عالم نے فرمایا کہ یہ بھی حرام ہے، تو حنفی مسلک میں اس کا پینا کیسا ہے؟
جواب
اگر اس میں شگاف دے کر افیون نکالی جاتی ہے اور وہ بالکل بغیر افیون کے رہ جاتی ہے تو اس طرح اس کے پینے میں مضائقہ نہیں ہے لیکن اگر اس میں افیون موجود رہتی ہے، اس کی اجازت نہیں دی جائے گی جو لوگ اس کے عادی ہو جاتے ہیں، ان کو نشہ نہیں ہوتا مگر اس کی وجہ سے ان کو اجازت نہیں دیجاتی
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔