الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

کسی کا شراب چھوڑنے کے لئے دوسرے کے وعظ چھوڑنے کی شرط لگانا

سوال

ایک نوجوان شراب پیتا ہے، کھڑے ہو کر پیشاب کرتا ہے، اس کے عزیز واقارب کسی سید پیر کامل سے مرید ہیں، شیخ جب ان کے گھر آئے تو ان کو اس کا شراب پینا اور نماز نہ پڑھنا معلوم ہوا تو انہوں نے اپنے مریدین اور اس کے گھر والوں کی موجودگی میں اس کو نصیحت کی اور گھر والوں سے کہا کہ اس کے برتن وغیرہ علیحدہ کردو، تا وقتیکہ اس برے فعل سے باز نہ آئے، اس بات پر لڑکا بداخلاقی سے پیش آیا اور پیر صاحب سے کہا کہ اگر آپ اپنا وعظ ونصیحت کا سلسلہ چھوڑ دیں تو میں شراب پینا چھوڑ دونگا، ایسے شخص کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے؟

جواب

شراب چھوڑنے کے لئے یہ شرط لگانا کہ پیر صاحب وعظ و نصیحت چھوڑ دیں، غلط اور نا قابل عمل شرط ہے، شراب سے اللہ پاک نے منع فرمایا ہے، اور اللہ تعالیٰ کے رسول ﷺ نے شراب پینے پر لعنت فرمائی ہے کہ دین اسلام میں اس کی سزا سخت ہے، ان سب وعیدوں کو سنایا جائے، اس شخص کی خاطر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو ترک نہ کیا جائے

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو