الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

کسی کی کتاب بلا اجازت استعمال کرنا

سوال

ایک شخص کتب خانہ یا مدرسہ میں مطالعہ کے لئے گیا وہاں ایک ایسے مصنف کی کتاب بھی آئی جس سے بے حد اعتقاد بھی ہے، اور ساتھ ہی ساتھ کتاب کا مطالعہ کرنے سے وہ کتاب مضمون کے اعتبار سے اُسے پسند بھی ہے، وہ شخص کتب خانہ سے بغیر مالک کتب خانہ کی اجازت کے اس کتاب کو خاموشی کے ساتھ لے آیا، ایا ایسی صورت میں یہ شخص گنہگار ہوگا یا نہیں، بظاہر گنہگار شرعی حیثیت سے معلوم ہوتا ہے، اگر فی الواقع گنہگار ہے تو کیا کوئی ایسی صورت ہے کہ کتاب کی قیمت ادا کر کے گناہ سے بچ جائے، اور اگر ادا کریگا تو کیا کہہ کر ادا کریگا، اس لئے کہ اگر یوں…

جواب

اس کا یہ فعل غصب میں داخل ہے، اور حرام ہے، اس پر وہ گنہگار ہوگا، اگر وہ کتاب موجود ہے تو قیمت ادا کرنا کافی نہیں، بلکہ بعینہ اس کتاب کا واپس کرنا لازم ہے، جس طرح لایا ہے، اسی طرح واپس بھی کر آئے، اگر وہ تلف ہوگئی تو اس کی قیمت کتب خانہ میں بعد خریداری کتب جمع کرادے، یا وہ کتاب خرید کر دے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو