الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

کرایہ کے مکان پر قبضہ

سوال

زید فریق اول نے عمر فریق ثانی کو اپنے مکان کی زمین جس میں گائے وغیرہ باندھی جاتی ہے، اس شرط پر دی کہ وہ اپنے لئے رہائشی مکان بنالے اور تعمیر میں جو کچھ خرچ ہو کرایہ کے حساب سے منہا کرلے اور کچھ رقم بھی دینے کا وعدہ کیا، چنانچہ تین سال کی مدت میں بارہ روپیہ ماہواری کرایہ کے حساب سے تعمیر کے حساب میں منہا بھی کرا دیئے، حساب کرانے پر عمر فریق ثانی پر زید فریق اول کا کچھ روپیہ نکلتا ہے، جس کا عمر بھی اقرار کرتا ہے، فی الحال عمر بارہ روپیہ ماہوار کے حساب سے کرایہ برابر ادا کرتا ہے، لیکن اب عمر اس مکان پر مستقل طور پر…

جواب

یہ تو ظاہر ہے کہ زید نے یہ جگہ نہ عمر کو ہبہ کی ہے، اور نہ بیع کی ہے، بلکہ کرایہ پر دی ہے، اور جو روپیہ تعمیر میں خرچ ہوا، اس کو بھی کرایہ میں محسوب کرنے کا مطلب یہ ہوا کہ زید نے عمر کو اپنا وکیل بنایا کہ میری طرف سے یہ کرایہ مجھے دینے کے بجائے تعمیر میں خرچ کر دیں، تو اس لحاظ سے جو عمارت مکان بنے گی وہ بھی زید ہی کی ملک ہوگی، اگر زید کے ورثہ خالی کرانا چاہتے ہیں، تو عمر کو اس…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو