کفار کے کارخانہ میں خرد برد کرنا
سوال
فی زمانہ ہندوستان میں فیکٹریوں اور کارخانوں پر مشرکین و کفار قابض ہیں اور مسلمان ان کارخانوں میں مال سپلائی کا کام کر رہے ہیں، اور مالی حالت خراب ہوتے ہوتے پستی میں چلے جا رہے ہیں، البتہ اگر مال کی سپلائی میں خرد برد سے کام لیں تو البتہ فائدہ ہے، لہذا ایسی صورت میں ہندوستان جیسے دار الحرب ملک میں کفار و مشرکین چالبازوں سے خرد برد کر سکتے ہیں یا نہیں؟
جواب
(۱) خرد برد (یعنی غلط طریقہ پر کسی کا مال لے لینا) شرعاً درست نہیں، چوری ہر جگہ ناجائز ہے کہ اگر دار الحرب قرار دیکر غیر مسلموں کی چوری کی عادت ہو جائے تو پھر خطرہ ہے کہ مسلمان کی چوری سے بھی احتیاط نہیں کر سکے گا، نیز خرد برد کرنے کی اگر خبر لگ جائے تو عزت و مال دونوں پر آفت آ جائے گی، ایسا کام کرنا کسی دانشور کا کام نہیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔