الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

۷۵ / بیگہ سے زائد زمین رکھنا اور کسی کا اس پر قبضہ کرنا

سوال

آج کل سرکاری قانون ہے کہ ۵ ر بیگہ سے زائد کوئی زمین نہیں رکھ سکتا، حالانکہ اس قانون کے قبل اس نے اپنے پیسے سے زائد زمین خرید رکھی ہے، اس صورت میں زبردستی ۵ ر بیگہ زمین کاٹ لینا کیا حلال ہوگا کہ نہیں؟ یہ فعل عوام کے لئے حلال ہوگا کہ نہیں، اور قانون کیسا ہے؟

جواب

جس شخص نے اپنی مملوکہ زمین میں جہاں وہ بویا ہے وہ بونے والے کی ملک ہے، بغیر مالک کی اجازت کسی کو کاٹنے کا حق نہیں، بلکہ ایسا کرنا غصب اور ظلم ہے، قانون کا حاصل بھی یہ نہیں کہ جس کے پاس ۵ ر بیگہ زمین زائد ہو، اس کی بوئی ہوئی فصل جس دل چاہے کاٹ لے، بلا قیمت زبردستی قبضہ کرلینا بھی ظلم ہے، اس کا کسی کو حق نہیں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو