مملوک کنویں کو مندر بنانا
سوال
ایک تکیہ قبرستان مسجد اور کنواں بنام نکو شاہ‘ قدوس شاہ، سے موسوم ہے، تکیہ مسجد اور کنواں تقریباً ۵۰۰ سو سال پرانا ہے جو ہمارے آباء واجداد کی ملکیت رہا ہے، اور اب ہم اس پر قابض ہیں، تکیہ ہذا مسجد میں کنواں اس لئے تعمیر کرایا گیا تھا کہ یہاں مسجد کے نمازیوں کو کوئی تکلیف نہ ہو، اب قدرتی طور پر اس کنویں کا پانی تقریباً ۲۶٫۲۵ سال سے بند ہو گیا ہے، اور کنواں خشک ہو گیا، اور کنواں اپنی جگہ پر موجود ہے، جو کھنڈر ہو چکا ہے، تو جگہ سے فائدہ اٹھانے کے لئے کچھ شر پسندوں نے اس کنویں کی جگہ کو اپنی ملکیت بتایا ہے، جس میں قصبہ…
جواب
جب وہ کنواں آپ کے آباء واجداد کی ملک ہے، آپ اس پر بحیثیت وارث قابض ہیں، تو پھر کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ کنواں کسی اور کو مندر وغیرہ کے لئے دے، ایسا کرنا غصب اور ظلم ہے، جس کی ہرگز اجازت نہیں، ان لوگوں کو ایسا کرنے سے باز آنا ضروری ہے، ان کو بھی سمجھا کر اپنے اثر سے کام لے کر ان غلط ارادوں سے روک دینا چاہئے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔