مخدوم کے مال میں خادم کا تصرف
سوال
(۱) زید اور عمر میں سے زید مرید ہے اور عمر پیر ہے، اور زید طالب علم ہے، اور عمر فالج کا مریض ہے، اور زید کے معاشی اخراجات کا کوئی وسیلہ اور ذریعہ نہیں ہے، اور عمر بزرگ شخص ہے، اس وجہ سے اس کا ذریعہ ہے، اور وہ یہ کہ عمر تعویذ کے پیسے لیتا ہے، اور اس کے مریدین بھیجتے ہیں، اور ملنے والے نذرانہ دیتے ہیں، اور وہ ضرورت کے وقت مانگ بھی لیتا ہے، باوجود ان سب وجوہات کے عمر کے خرچ میں اتنی گنجائش ہے کہ وہ خود کھاتا ہے، اور زید جو کہ طالب علم ہے وہ عمر کی خدمت بھی کرتا ہے، تو اگر زید اس کا پیسہ اور کھانا بغیر اس کی اجازت ت…
جواب
(۱) اپنے پیر صاحب کی خدمت کرنا عین سعادت ہے، اور وہ بھی جبکہ وہ مریض ہوں تو بہت ضروری اور ثواب کی بات ہے، لیکن ان کی چیز، پیسہ اور کھانا وغیرہ کو بغیر ان کی رضا مندی کے ہرگز استعمال نہ کرے، خاموش رہنا بھی کافی نہ سمجھے بلکہ وقت ضرورت ان سے مانگ لے جب وہ خوشی کے ساتھ اجازت دے دیں، تب استعمال کرے ”لا يحل مال امرء مسلم الابطيب نفس منه (الحديث) رواه الطحاوى۔ (۲)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔