الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

دوسرے کی زمین کاشت کرنے سے کیا مالک بن جائے گا

سوال

ایک شخص مرزا عاقل حسین صاحب کو کچھ اراضی مزروعہ ترکہ میں ملی اس کا مورث کاشت کیا کرتا تھا، آراضی بالا قصبہ سر دھنہ میرٹھ میں واقع ہے، مرزا عاقل حسین میرٹھ میں سکونت رکھتا ہے، گاہ گاہ میرٹھ سے آتا جاتا ہے، کچھ مدت تک آراضی کاشت نہیں ہوئی، افتادہ رہی، ایک شخص معین الدین شاہ نے آراضی پر غاصبانہ قبضہ کر کے کاشت شروع کردی، اور کاغذات میں بلا تصفیہ لگان کاشتکار درج ہو گیا، قانون خاتمہ زمینداری کے بموجب ہر کاشتکار خواہ اس کی نوعیت کچھ ہو وہ کاشتکار، سیر دار حکومت نے تسلیم کر لیا، اگر وہ دو گنا لگان داخل خزانہ حکومت کر…

جواب

جو شخص کسی کی ایک بالشت زمین غصب کرے گا، ساتوں زمین کا طوق بنا کر اس کے گلے میں ڈالدیا جائے گا، یہ حدیث شریف میں موجود ہے، اس لئے غصب کرنا کبیرہ گناہ ہے۔ حرام قطعی لعینہ کو حلال قطعی اعتقاد کرنا کفر ہے، گناہ کو گناہ سمجھتے ہوئے جو شخص گناہ کبیرہ کا ارتکاب کرے، اس پر کفر کا حکم نہیں لگایا جائے گا۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو