دوسرے کی زمین کو غصب کرنا
سوال
زید، عمر، بکر تین آدمی ہیں، بکر نے کچھ زمین عمر کی اور کچھ زید کی زبر دستی اپنے قبضے میں رکھی تھی، پٹواری نے بکر کی کچھ زمین زید کے نام درج کردی، جس سے قانونی طور پر زید بکر کی زمین کا مالک ہو گیا، زید کی جس زمین پر بکر کا زبردستی قبضہ تھا، وہ اور تھی اور بکر کی جو زمین زید کے نام دیدی گئی وہ اور ہے، مگر قیمت میں دونوں برابر ہیں، بکر کی زمین جو قانونی طور پر زید کے نام دیدی گئی، اس میں کچھ پیر ہیں، جس کی وجہ سے بکر کی زمین کی قیمت زیادہ بن گئی عمر نے بکر سے تنگ آکر اپنی زمین عطیہ کے طور پر زید کو دیدی، زید نے عمر…
جواب
کسی کی زمین کو غصب کرنا گناہ کبیرہ اور سخت جرم ہے، غاصب سے اپنا حق وصول کرنا شرعاً درست ہے، خواہ قیمت کی صورت میں ہوا جس کی زمین ناحق قبضہ میں ہے اس کو واپس کرنا ضروری ہے ہے یا پھر رضا مندی سے اس کی قیمت دیدی جائے، اگر حقدار کو اس کا حق دیا جائے تو اس کو یہ کہنے کا حق نہیں کہ فلاں شخص کا بھی حق واپس کرو، یعنی اپنا حق قبول کرنے کے لئے یہ شرط نہ لگائے، ہاں نصیحت و عہد کے طور پر…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔