الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

فساد زدگان کیلئے چندہ کیا گیا کچھ بچ گیا اس کو کیا کیا جائے

سوال

خلاصۂ سوال یہ ہے کہ رانچی کے فسادات میں جو مسلمانوں کو عظیم نقصان پہنچا، ان کی امداد کے لئے مسلم ریلیف کمیٹی بنائی گئی تھی، جس میں کافی چندہ جمع ہوا، اور کافی تقسیم ہوا اور کچھ بچ گیا، بہرحال اب یہ فیصلہ کیا جا رہا ہے کہ اس کو دوسرے کاموں میں صرف کر دیا جائے، حالانکہ بہت بیوہ عورتیں موجود ہیں، تو کیا مسلم ریلیف کمیٹی کو یہ حق ہے کہ جو صرف مظلومینِ فساد کے لئے چندہ کیا گیا ہے، اپنی مرضی سے کسی دوسری جگہ خرچ کر دے؟ آخر مسلم ریلیف کمیٹی کی حیثیت کیا ہے؟ کیا یہ ممبران اس روپیہ کے مالک ہیں یا امین ہیں؟

جواب

جن کاموں کے لئے چندہ کیا گیا ہے، چندہ کی رقم کو ان ہی کاموں میں صرف کیا جائے، دوسرے کاموں میں رقم خرچ کرنا بلا اجازت چندہ دہندگان درست نہیں، چندہ دہندگان بقیہ رقم کو جن کاموں میں خرچ کرائیں، رقم کو ان کاموں میں خرچ کیا جائے گا، مسلم ریلیف کمیٹی کی حیثیت محض امین اور وکیل کی ہے، فتاویٰ عالمگیری، مصری، ج۳/ص۴۴۱/ کتاب الوکالة میں ہے: واماحکمہا فمنہ قیام الوکیل مقام المؤکل فیما…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو