الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

ودیعت کا روپیہ وفات مودع کے بعد اس کی مرضی کے خلاف صرف کرنا

سوال

زید نے اپنی ضرورت کیلئے اپنے ایک عزیز مثلاً جمال سے کچھ قرض مانگا، جمال نے کہا کہ میری والدہ کا روپیہ ایک صاحب کے پاس رکھا ہوا ہے، جو میری معرفت ہی امانت رکھوایا تھا، وہ میں تم کو دلائے دیتا ہوں، اس کو تم خرچ کر لو، جب ضرورت ہوگی، تم ادا کر دینا، اس طرح جمال اور جمال کے بھائی کمال نے وہ روپیہ زید کو دیدیا، اور زید نے اس کو اپنی ضرورت میں خرچ کر لیا، اس کے کچھ عرصہ بعد جمال وکمال کی والدہ نے اور جمال کے بڑے بھائی عقیل نے زید سے یہ کہا کہ جو رروپیہ جمال نے تم کو دیا ہے، وہ تم اپنے پاس رکھنا، اور جب ہماری پوتی…

جواب

ہندہ کا شوہر اس روپیہ سے بالکل بے تعلق ہے، اس کو مطالبہ کرنے کا کوئی حق نہیں، اس نے زید کی جو چیز چوری کر کے رکھ لی ہے، اس کا واپس کرنا ضروری ہے، اگر ہندہ اس پر رضامند تھی کہ اس کے چچا نے وہ روپیہ اس کی شادی کی ضروریات میں صرف کردیا، تو اب زید کے ذمہ دوبارہ وہ روپیہ ہندہ کو دینا لازم نہیں، زید نے بھی غلطی کی کہ اصل مالک ہندہ کی دادی کی ہدایت پر عمل نہیں کیا، اور شادی سے قبل…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو