امانت کی واپسی کے لئے شرط
سوال
زید نے جوضلع رائے بریلی کا رہنے والا ہے، پرتاب گڑھ میں ایک مسجد بنانے کے لئے روپے عمرو کے پاس جو معتبر شخص ہے، اور پرتاب گڑھ کا رہنے والا ہے، امانت رکھے، مسجد کے لئے جو زمین زید نے خریدی وہ بوجہ لگان قائم رہنے کے مسجد کے لئے ناجائز قرار دی گئی، اس لئے زید نے رائے بریلی کے ضلع میں ایک مسجد اس نیت سے تعمیر کرائی جو ہنوز زیر تعمیر ہے، اس مسجد کی تعمیر کے لئے اس وعدہ پر کچھ روپیہ قرض لیا کہ پرتاب گڑھ سے روپیہ لاکر ادا کردیگا، عمرو یہ کہتا ہے کہ پرتاب گڑھ ہی میں تمہیں کسی دوسری جگہ مسجد بنانی چاہئے، ورنہ روپیہ واپس نہ…
جواب
عمرو کا مطالبہ کہ پرتاب گڑھ ہی میں مسجد بناؤ یا اسی جگہ کسی دوسرے کام میں روپیہ خرچ کرو تو امانت کا روپیہ واپس ملے گا ورنہ نہیں ناجائز اور ظلم ہے، اصل مالک کو اختیار ہے کہ اپنا روپیہ جس جائز کام میں چاہے صرف کرے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔