مہتمم کے پاس سے زکوۃ چوری ہو گئی تو ضمان کا حکم
سوال
زید نے عمر کو پانچ روپیہ زکوۃ کے دے دیئے کہ وہ اپنے مدرسہ کے طلباء کو تقسیم کر دے۔ اتفاق کی بات کہ وہ پانچ روپیہ عمر کے پاس سے اسی مدرسہ کے طلبہ نے چرا لئے۔ کیا اس طرح مال زکوۃ چوری ہونے سے زکوۃ ادا ہوگئی؟ اگر نہیں تو ان پانچ روپیہ مال مسروقہ کا دیندار کون ہے زید یا عمر؟
جواب
زکوۃ کے لئے تملیک شرط ہے، اباحت بھی کافی نہیں چہ جائیکہ مصرف کا چوری کر لینا۔ عمر مہتمم مدرسہ اگر صرف معطی زکوۃ کا وکیل ہے تو صورت مسئولہ میں زکوۃ ادا نہیں ہوئی، پھر اگر بغیر تعدی مہتمم یعنی باوجود حفاظت تامہ کے چوری ہوگئی تو عمر پر ضمان لازم نہیں، پھر زید دوبارہ زکوۃ ادا کرے کیونکہ وکیل امین ہوتا ہے، اور امین کا یہی حکم ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔