نابالغ نے ڈھیلا مار کر گھوڑی کی آنکھ پھوڑ دی اس کا تاوان
سوال
زید کے پاس ایک گھوڑی تھی جس پر سوار ہو کر نماز جمعہ پڑھانے جاتا رہا تھا، ایک روز گھوڑی بکر کے دروازہ پر چلی گئی، بکر موجود نہیں تھا، اس کا نابالغ لڑکا کھیل رہا تھا، اس نے ایک ڈھیلا مار دیا جو اس کی آنکھ پر جا لگا، اور آنکھ پھوٹ گئی، زید کہتا ہے کہ ہم کو تاوان دے، بکر کہتا ہے کہ طفل صغیر نے مار دیا ہے تاوان کیوں دوں، میرا کوئی اشارہ بھی نہیں تھا، اور نہ موجود ہی تھا، پھر کس طرح ہم پر تاوان عائد ہوگا؟
جواب
اگر نابالغ لڑکے نے ڈھیلا مار کر گھوڑی کی آنکھ پھوڑ دی ہے تو بھی اس کا ضمان لازم ہوگا، ضمان کی مقدار گھوڑی کی چوتھائی قیمت ہے،
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔