مہتمم پر ضمان
سوال
ایک صاحب بہت نیک اور با حیثیت مگر آنکھوں سے معذور عرصہ سے ایک عربی مدرسہ کے مہتمم اور مدرسہ کا جو کچھ چندہ وغیرہ کا روپیہ ہوتا تھا وہ بھی انہیں کے پاس رہتا تھا، روپیہ کی آمد و خرچ کا حساب مہتمم بوجہ معذوری چشم نہیں کرتے تھے بلکہ ملازمین مدرسہ یا دیگر اراکین مدرسہ لکھتے تھے، کچھ عرصہ کے لئے ایک اور صاحب مہتمم کر دیئے گئے مگر ان سابقہ معذور چشم مہتمم کی تحویل میں روپیہ رکھا گیا، کچھ عرصہ کے بعد یہ مہتمم بوجہ معذوری خود ہی سبکدوش ہو گئے، اور اہتمام مدرسہ مع زر امانت کے ایک جدید مہتمم صاحب کے سپرد کیا گیا، اس وقت…
جواب
صورت مسئولہ میں حسب بیان سائل جبکہ معذور چشم مہتمم صاحب نے مدرسہ کی مثل اپنے روپے کی حفاظت کی اور کسی قسم کی خیانت نہیں کی تو ضائع شدہ روپیہ کی ضمان مہتمم صاحب کے ذمہ نہیں، بشرطیکہ جن افراد سے روپیہ نکلواتے اور رکھواتے تھے وہ بھی مہتمم صاحب کے نزدیک امین ہوں وهي امانة فلا تضمن بالهلاك مطلقاً واشتراط الضمان علی الامین باطل به یفتی وللمودع حفظها بنفسه وعیاله وهم من یسکن معه…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔