جلدی میں ٹکٹ نہ لے سکا اور پیسے گارڈ کو دیدئے تو وہ کافی ہے یا نہیں
سوال
مجھے ایک مرتبہ دیوبند سے سہارنپور جانا تھا، اسٹیشن پر پہنچا تو گاڑی چل دی اور میں چلتی گاڑی میں چڑھ گیا اور جلدی کی وجہ سے ٹکٹ نہ خرید سکا، پٹری اسٹیشن پر گارڈ سے ملا اور اس نے پچھتر پیسے لیکر کہا کہ میں سہارنپور میں گیٹ سے پاس کرا دونگا، چنانچہ اس نے مجھے گیٹ سے پاس کرا دیا، نہ اس نے مجھے ٹکٹ دیا اور نہ ہی رسید دی، غالباً وہ پیسہ محکمہ ریلوے کو نہیں پہنچا، اب شریعت کی رو سے بندہ سبکدوش ہو گیا یا نہیں؟
جواب
جبکہ آپ نے سہارنپور تک سفر کیا اور عجلت کی وجہ سے ٹکٹ خرید نہیں سکے اور پیری اسٹیشن پر گارڈ سے مل کر پٹری سے سہارنپور تک کا پیسہ بھی اس کو دیدیا، مگر اس نے نہ ٹکٹ دیا، نہ رسید دی، تو ظاہر ہے کہ وہ پیسے ریلوے کے ایک ملازم (گارڈ)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔