مسجد کے حجرہ سے چوری کا ضمان کس پر
سوال
ایک مسجد سے ایک کونٹل کے قریب وزن کے تانبہ کے برتن ایسی حالت میں چوری ہو گئے کہ نہ تو صدر دروازہ پر کسی قسم کا تالا لگا تھا اور نہ ہی کوئی محافظ مسجد کی حفاظت کے لئے مقرر تھا، البتہ جس گھر میں برتن تھے، اس پر تالا لگا تھا، جسے چوروں نے بآسانی توڑ کر برتن نکال لئے، ایسی صورت میں متولی مسجد پر معقول حفاظت نہ کرنے پر کوئی جرم عائد ہوتا ہے یا نہیں؟ اگر جرم عائد ہوتا ہے تو تلافی کی کیا صورت ہوگی؟
جواب
مساجد کے صدر دروازہ پر عموماً تالا نہیں لگایا جاتا، تاکہ جو شخص جب بھی دل چاہے مسجد میں آکر عبادت کر سکے، نیز ہر مسجد میں محافظ بھی مقرر نہیں ہوتا، بلکہ اوقات نماز میں مؤذن آتا ہے، اور مسجد کی صفائی اور صف بچھانے کا کام کرتا ہے، اگر یہی صورت آپکے یہاں بھی ہے، تو حجرہ پر قفل کا ہونا ہی حفاظت کیلئے کافی ہے، متولی پر کوئی ضمان لازم نہیں، ہاں اگر وہ جگہ چوروں کی ہے، اور چوروں کے…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔