الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

نیلام کی ایک صورت

سوال

میری لکڑی کی آڑت کی دوکان ہے جس پر باہر سے لانے والوں کا مال نیلام کرتا ہوں اور جس کا مال نیلام کرتا ہوں اس سے آرت یعنی کمیشن کاٹتا ہوں، اور فوراً پیمنٹ کر دیتا ہوں، اور جس سے مال فروخت کرتا ہوں اس سے آڑت یعنی کمیشن لیتا ہوں اور دونوں جانب سے برابر کمیشن لیتا ہوں، اور اگر اندر میعاد مال لینے والا رقم واپس کرتا ہے، تو اس سے کمیشن نہیں لیتا اور اپنی جانب سے جو کمیشن مال والے سے لیا ہے اس میں سے ایک پیشہ فی روپیہ واپس کر دیتا ہوں، یعنی خریدار کو اتنا دیتا ہوں یہ سب طریقہ شرعاً درست ہے یا نہیں؟

جواب

نیلام کرنے والے کو کمیشن (اجرت نیلام) لینا درست ہے مال والے سے بھی خریدار سے بھی لیکن سود سے بچنا لازم ہے، لہذا اگر کوئی میعاد مقررہ پر رقم نہ دے تو اس سے سود نہ لیا جاوے اندر میعاد رقم ادا کرنے کے بعد ایک پیسہ واپس کرنا یہ قیمت میں کم کرنا ہے جس کا مالک کو اختیار ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو