الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

حق المحنت کی ایک صورت

سوال

زید نے کسی فنڈ میں سے اپنے نام مال منگوایا مگر کسی مالی مجبوری کی بناء پر وہ اس مال کو چھڑانے سے قاصر ہے، مال کو واپس بھی نہیں لیا جاسکتا ہے، چونکہ یہ تجارتی اور اخلاقی ضابطہ کی خلاف ورزی سمجھا جائے گا، اسلئے ایک دوسرے شخص سے مال کو چھڑانے کے لئے کہا شخص مذکور نے مال چھڑانے کے لئے آڑت لینے کی شرط لگادی مثلاً پانچ روپیہ سینکڑہ آرت یا کمیشن اگر دینا منظور ہو تو یہ آڑتی یا کمیشن ایجنٹ اپنی نقدی سے مال مذکور کو چھڑا لیگا، اس صورت میں یہ آرت یا کمیشن لینا کیسا ہے؟

جواب

مال منگوانے والا اگر کسی مجبوری سے مال نہ چھڑا سکے اور کبھی دوسرے شخص کو کہدے وہ چھڑا لے اور اس چھڑانے اور لاکر حفاظت سے رکھنے کا معاوضہ مقرر کر لیا جائے، تو درست ہے خواہ اس کو آڑت کہا جائے یا کمیشن مگر یہ حقیقت میں حق المحنت ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو